پی آئی اے کے ایئرکرافٹ انجینئرز کے احتجاج کے باعث قومی ایئر لائن کی بین الاقوامی پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہوگیا۔

کراچی : پی آئی اے انتظامیہ اور ایئرکرافٹ انجینئرز کے درمیان تنازع مزید سنگین ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں انجینئرز نے طیاروں کی کلیئرنس روک دی ہے۔

ذرائع کے مطابق انجینئرز کے احتجاج کے باعث قومی ایئرلائن کا فضائی آپریشن بری طرح متاثر ہوا ہے۔ گزشتہ رات 8 بجے کے بعد سے چھ بین الاقوامی پروازیں روانہ نہیں ہوسکیں، جبکہ مجموعی طور پر 12 پروازیں تاخیر یا منسوخی کا شکار ہوئیں، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات پیش آئیں، خصوصاً عمرہ زائرین زیادہ متاثر ہوئے۔

لاہور سے ابوظہبی اور اسلام آباد سے دمام و دبئی جانے والی پروازیں بھی احتجاج کی زد میں آ گئیں۔

سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز نے اعلان کیا ہے کہ جب تک پی آئی اے کے سی ای او کا رویہ بہتر نہیں ہوتا، وہ اپنے فرائض انجام نہیں دیں گے اور طیاروں کو اڑان کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق انجینئرز گزشتہ ڈھائی ماہ سے اپنے مطالبات کے حق میں بازو پر سیاہ پٹیاں باندھ کر پرامن احتجاج کر رہے تھے، لیکن انتظامیہ نے بات چیت سے گریز کیا۔

دوسری جانب ترجمان پی آئی اے نے موقف اختیار کیا کہ سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور ان کی یہ کارروائی دراصل پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔ ترجمان کے مطابق لازمی سروسز ایکٹ نافذ ہے، اس لیے کام چھوڑ دینا قانوناً جرم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے متبادل انجینئرنگ سہولیات دیگر ایئر لائنز سے حاصل کر لی ہیں، اور جلد ہی تمام متاثرہ پروازیں روانہ کر دی جائیں گی۔

شیئر کریں