پاکستان اب صرف 11 کھلاڑی نہیں، ایک ٹیم ہے

پی سی بی نے جب ٹیم کی قیادت سلمان آغا کو تھمائی تو یہ ایک ایسا غیر مقبول فیصلہ تھا کہ سبھی سپر سٹارز کے انفرادی ‘کلٹ’ اپنے اپنے تئیں منہ بسورے کونے میں جا بیٹھے‘مضمون کی تفصیل

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
  • 2 گھنٹے قبل

دنیائے کرکٹ کے ’پرنس‘ برائن لارا نے کہا تھا کہ بہتر نتائج کے لیے آپ کو سپر سٹارز کا کوئی گروہ درکار نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسی ’ٹیم‘ کی ضرورت ہوتی ہے جو اکٹھے ہو کر اپنا کام کر سکے۔

پاکستانی کرکٹ کلچر میں پرانی رِیت رہی ہے کہ سپر سٹارز عموماً اپنے قد سے اِس قدر اونچے ہونے لگتے ہیں کہ اُن کے سائے میں ٹیم کو ڈھونڈ پانا ہی دشوار ہو جاتا ہے۔ گویا وہ ایسے بڑے درخت بن جاتے ہیں کہ اُن کی چھایا میں صرف جھاڑیاں ہی اُگ پاتی ہیں۔

سوشل میڈیا کی آمد نے اِس سُپر سٹار کلچر کی تُندی کو مزید ہوا دی ہے۔ اب تو کچھ کھلاڑیوں کو باقاعدہ پبلک ریلیشننگ فرمز کی خدمات میسر ہوتی ہیں اور پھر وہ ’عوامی رابطہ کار‘ پہلے سے ہی موجود ’فین کلٹ‘ کے گرم جذبات میں دن دگنا، رات چوگنا اضافہ کرتے ہیں۔

ایسے ماحول میں عموماً پوری ٹیم کے نتائج شائقین کے لیے ویسی معنویت نہیں رکھ پاتے جیسی انھیں کسی سپر سٹار کی ایک گگلی، ایک ریورس سوئنگ، ایک لیگ گلانس یا ایک ڈرائیو میں دکھائی دیتی ہے۔ انفرادیت کے ایسے زرخیز کلچر میں ٹیم ورک کے ذخائر بنجر ہوتے دیر نہیں لگتی۔

پی سی بی نے جب اپنی ٹی ٹونٹی ٹیم کی قیادت سلمان آغا کو تھمائی تو یہ ایک ایسا غیر مقبول فیصلہ تھا کہ سبھی سپر سٹارز کے انفرادی ’کلٹ‘ اپنے اپنے تئیں منہ بسورے کونے میں جا بیٹھے اور پوری ٹیم سے ہی لاتعلقی سی اختیار کر لی۔

شیئر کریں