میرپور میں برطانوی ورک پرمٹ اور ویزا کا مبینہ فراڈ: ’لٹل برمنگھم‘ کے درجنوں شہری ایجنٹس کا شکار کیسے بنے؟

شگفتہ بی بی کا خواب تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو تعلیم مکمل ہونے کے بعد بیرون ملک بھیجیں اور اِسی لیے اُن سے ایک ایجنٹ نے 82 لاکھ روپے کے عوض برطانیہ کا ورک پرمٹ دینے کا وعدہ کیا تھا۔

شگفتہ کا تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع میرپور سے ہے جسے ’لٹل برمنگھم‘ بھی کہا جاتا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اِس علاقے سے تعلق رکھنے والے ہزاروں خاندان برطانیہ کی مستقل شہریت رکھتے ہیں۔

مگر شگفتہ بی بی کا یہ خواب اُس وقت ٹوٹ گیا جب اُنھیں معلوم ہوا کہ اُن کے بیٹے شیراز کو لاکھوں روپے کے عوض جو ورک پرمٹ اور برطانوی ویزا دیا گیا تھا، وہ مبینہ طور پر جعلی تھا۔ شیراز آج کل ایک شادی ہال میں بطور ویٹر کام کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ اُن کے مطابق ایک ایجنٹ نے ناصرف اُن کے والدین کے خوابوں کو توڑ کر رکھ دیا بلکہ اُن کا خاندان اپنی جمع پونجی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔

شیراز کہتے ہیں کہ ’مجھے اب اپنے بہتر مستقبل کی نہیں، بلکہ والدہ کو سکون فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے ایک طرف گھر والوں کی پریشانی ہے تو دوسری طرف ادھار لی گئی رقم کی فکر ہے کہ یہ کیسے واپس کروں گا؟‘

بی بی سی کو میرپور پولیس کے ریکارڈ تک رسائی حاصل ہوئی ہے جس کے مطابق سال 2025 کے آغاز سے اب تک میرپور ضلع کے تھانوں میں ویزا فراڈ کے 200 سے زیادہ متاثرین نے 185 درخواستیں دائر کیں جن پر مجموعی طور پر 22 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

شیئر کریں