چشتیاں کی عوام آج ایک ایسے محنتی، باصلاحیت اور عوام دوست اسسٹنٹ کمشنر سے رخصت ہو رہی ہے جس نے اپنے دورِ تعیناتی میں ہر لمحہ اپنی ذمہ داری کو دیانت، خلوص اور دلجمعی سے نبھایا۔ ساحل رسول چیمہ نہ صرف ایک قابل انتظامی افسر کے طور پر پہچانے گئے بلکہ ایک ایسے رہنما کے طور پر بھی یاد رکھے جائیں گے جنہوں نے عوام کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھا۔
ان کے دور میں شفافیت، فوری رسپانس اور عملی اقدامات نمایاں رہے۔ عوامی شکایات ہوں یا انتظامی امور، ہر معاملے میں ان کی سنجیدگی اور مثبت رویہ چشتیاں کے شہریوں کے لیے آسانیوں کا سبب بنا۔ وہ ہر شہری کی بات غور سے سنتے، مسئلے کی جڑ تک پہنچتے اور ممکنہ حد تک بروقت حل فراہم کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے دلوں میں ان کے لیے احترام اور اعتماد پیدا ہوا۔
چشتیاں آج ایک ایسے اسسٹنٹ کمشنر سے محروم ہو رہا ہے جس نے انصاف، محنت اور اصول پسندی کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ ان کی قیادت میں شہر میں نظم و نسق بہتر ہوا، ترقیاتی عمل کو تقویت ملی اور عوام و انتظامیہ کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہوئی۔ ان کی موجودگی نے نہ صرف انتظامی استحکام دیا بلکہ شہریوں کو یہ احساس بھی دلایا کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔
اب اگرچہ چشتیاں ایک نئے اسسٹنٹ کمشنر کا منتظر ہے، اور یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آنے والا افسر عوامی توقعات پر کس حد تک پورا اُترے گا، مگر یہ حقیقت ہے کہ ساحل رسول چیمہ کی خدمات، لگن اور خلوص کو بھلایا نہیں جا سکے گا۔ ان کا نام چشتیاں کی انتظامی تاریخ میں ہمیشہ قدر و احترام سے لیا جائے گا۔
ہم سب دعا گو ہیں کہ ساحل رسول چیمہ اپنی محنت، قابلیت اور عوام دوستی کے یہی چراغ بڑے شہر لاہور میں بھی روشن کریں اور وہاں بھی اسی جذبے سے خدمات سرانجام دیں۔

