ماں کی گود میں ایک معصوم بچہ تھا، جو مسلسل رو رہا تھا۔ اس کے چہرے پر تکلیف صاف جھلک رہی تھی اور سانسیں بے ترتیب تھیں۔ ماں کی آنکھوں میں خوف اور بے بسی تھی، جبکہ باپ کے چہرے پر پریشانی نمایاں تھی۔ دونوں کی ایک ہی فریاد تھی کہ کسی طرح بچے کو فوراً ہسپتال پہنچایا جائے۔
ماں بار بار ٹریفک وارڈن کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہہ رہی تھی،
“سر، خدا کے لیے ہمیں جانے دیں، میرے بچے کی حالت بہت نازک ہے، وہ ٹھیک نہیں ہے۔”
باپ نے بھی بھرائی ہوئی آواز میں کہا،
“آپ چالان کر چکے ہیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں، بس ابھی موٹر سائیکل دے دیں تاکہ ہم بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جا سکیں۔ بچے کی حالت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔”
مگر ٹریفک وارڈن کے چہرے پر ذرا سا بھی ترس نہ آیا۔ اس نے سخت لہجے میں جواب دیا،
“پہلے چالان ادا کرو، پھر موٹر سائیکل ملے گی۔ قانون سب کے لیے برابر ہے۔”
ماں باپ نے بہت منت سماجت کی، بچے کی حالت دکھائی، آنسو بہائے، مگر کسی بات کا اثر نہ ہوا۔ معصوم بچہ روتا رہا، ماں اسے سینے سے لگائے دعائیں مانگتی رہی، اور باپ بے بسی سے یہ منظر دیکھتا رہا۔
آخرکار، ماں کا صبر جواب دے گیا۔ جب اس نے دیکھا کہ انسانیت کی کوئی قدر نہیں کی جا رہی اور اس کے بچے کی جان خطرے میں ہے، تو وہ غصے میں آ گئی۔ ماں کے درد اور بے بسی نے غصے کی شکل اختیار کر لی اور وہ ٹریفک وارڈن پر پھٹ پڑی، سوال کرتی رہی کہ کیا قانون انسانیت سے بڑا ہو گیا ہے؟ کیا ایک ماں کے آنسو اور ایک بچے کی جان کی کوئی قیمت نہیں؟
یہ واقعہ صرف ایک چالان کا نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں انسانیت اور احساسِ ذمہ داری پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر رہ گیا۔

