امریکہ بگرام فوجی اڈہ کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس پر چین کو تشویش کیوں ہے؟

افغانستان میں طالبان کی حکومت نے امریکہ کی جانب سے بگرام ایئر بیس کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے عزائم رکھنے والوں کو ’افغانستان کی تاریخ دیکھنی چاہیے۔‘

امریکہ کے اعلان کے بعد نہ صرف طالبان حکومت کی جانب سے جواب آیا ہے بلکہ چین کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔

جمعے کو طالبان حکومت کے قطر میں سفیر سہیل شاہین کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’اگر وہ ہم سے اچھے تعلقات، افغانستان میں سرمایہ کاری، تجارت اور سفارتی تعلقات چاہتے ہیں تو ہم ان کو خوش آمدید کہیں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن اگر وہ لالچ پر مبنی مقاصد رکھتے ہیں تو انھیں برطانوی دور میں (افغانستان پر کیے جانے والے) حملے سے لے کر حالیہ امریکی حملے تک افغانستان کی تاریخ پڑھنی چاہیے۔ وہ اس سے بہت کچھ سیکھیں گے۔‘

اس سے قبل افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار ذاکر جلالی نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہا تھا کہ دوحہ مذاکرات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے کے دوران اس نوعیت کے کسی امکان کو یکسر مسترد کر

دیا گیا تھا۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت نے امریکہ کی جانب سے بگرام ایئر بیس کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے عزائم رکھنے والوں کو ’افغانستان کی تاریخ دیکھنی چاہیے۔‘

امریکہ کے اعلان کے بعد نہ صرف طالبان حکومت کی جانب سے جواب آیا ہے بلکہ چین کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔

جمعے کو طالبان حکومت کے قطر میں سفیر سہیل شاہین کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’اگر وہ ہم سے اچھے تعلقات، افغانستان میں سرمایہ کاری، تجارت اور سفارتی تعلقات چاہتے ہیں تو ہم ان کو خوش آمدید کہیں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن اگر وہ لالچ پر مبنی مقاصد رکھتے ہیں تو انھیں برطانوی دور میں (افغانستان پر کیے جانے والے) حملے سے لے کر حالیہ امریکی حملے تک افغانستان کی تاریخ پڑھنی چاہیے۔ وہ اس سے بہت کچھ سیکھیں گے۔‘

اس سے قبل افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار ذاکر جلالی نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہا تھا کہ دوحہ مذاکرات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے کے دوران اس نوعیت کے کسی امکان کو یکسر مسترد کر دیا گیا تھا۔

جمعرات کو برطانیہ کے اپنے دو روزہ دورے کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ برطانوی وزیراعظم کے ہمرار مشترکہ پریس کانفرنس کی تھی۔

بین الاقوامی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ سے وابستہ صحافی نے پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ سے روس اور یوکرین کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات کی بابت سوال پوچھا تھا۔

اس سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بلواسطہ طور پر سابق بائیڈن انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’روس کی نظر میں اگر امریکی قیادت کی کوئی اہمیت ہوتی تو وہ ایسا (یوکرین پر حملہ) کبھی نہ کرتا۔‘

ٹرمپ نے سابق امریکی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا ’بغیر کسی وجہ کے افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا بہت شرمناک تھا‘ اور ’ہم افغانستان سے طاقتور اور قابلِ عزت طریقے سے بھی نکل سکتے تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم بگرام ایئر بیس، جو دنیا کے بڑے فوجی اڈوں میں ایک ہے، کو واپس لینے جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم اسے واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ آپ کے لیے ایک چھوٹی سی بریکنگ نیوز ہو سکتی ہے۔ ہم اسے واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ انھیں (افغانستان) بھی ہماری ضرورت ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’اس فوجی اڈے کو واپس لینے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ (بگرام) چین کے جوہری ہتھیار بنانے کے مقام سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔‘

یاد رہے کہ افغانستان میں موجود بگرام فوجی اڈے کا شمار امریکہ کے دنیا بھر میں قائم بڑے فوجی اڈوں میں ہوتا تھا۔ سنہ 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے وقت امریکہ نے یہ اڈا خالی کر دیا تھا۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ جب ٹرمپ نے بگرام اییر بیس کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے اسے دوبارہ حاصل کرنا کی بات کی ہے۔ اس سے قبل صدارت سنھبالنے کے اپنی کابینہ کے ساتھ پہلی میٹنگ کے پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے بگرام کا اڈہ خالی کرنے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو افغانستان میں بگرام فوجی اڈہ نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔

ماضی میں تقریباً ہر بار جب انھوں نے کابل کے شمال میں واقع صوبہ پروان میں بگرام کے فوجی اڈے کا ذکر کیا تو اس کے فوراً بعد ہی چین کا ذکر بھی کیا اور دعویٰ کیا کہ ’چین نے بگرام پر قبضہ کر لیا ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے آخری بار رواں ماہ (سات جولائی) کابینہ کے اجلاس میں کہا تھا کہ ’اگر میں ہوتا تو بگرام کا بڑا فوجی اڈہ اپنے پاس ہی رکھتا، جو کہ اب چین کے کنٹرول میں ہے۔ (بگرام) دنیا کے سب سے طاقتور رن ویز میں سے ایک ہے، جو کہ کنکریٹ اور سٹیل سے بنا ہوا ہے۔ بگرام ایک بہت بڑا بیس تھا۔ یہ سینکڑوں کلومیٹر طویل مضبوط دیواروں سے گھرا ہوا تھا، اس کے ارد گرد کا علاقہ محفوظ تھا، اور کوئی بھی اس میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔’

شیئر کریں