اےسی کو پتا ہی نہیں کہ وہ کنسٹرکشن سائٹ ہے، اےسی صاحب! پھر بتائیں کہ وہ کس کا کام ہے؟ میں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ میرے دل پراس وقت کیا گزر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز
یڈیا کے مطابقوزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت کھلے مین ہول میں ماں بیٹی کے گرنے کے واقعے پر اجلاس ہوا۔
اجلاس میںوزیراعلیٰ مریم نواز کو بھاٹی گیٹ واقعے پر بریفنگ دی گئی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ کنٹریکٹر، نیسپاک اور ایل ڈی اے کی غفلت سامنے آئی ہے، اس موقع پروزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ میرے دل پراس وقت کیا گزر رہی ہے، تعمیراتی کام کے دوران سیوریج اور گٹر کور کیوں نہیں کئے گئے؟ کمشنرلاہور، ڈی سی ، ڈی جی ایل ڈی اے اور ایم ڈی واسا آپ سب جواب دہ ہیں۔
بھاٹی گیٹ واقعے پر ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہئے۔ اسسٹنٹ کمشنر کو پتا ہی نہیں ہے کہ وہ کنسٹرکشن سائٹ ہے ۔ اے سی صاحب ! فرما رہے کہ وہ واقعے کی جگہ کبھی گئے ہی نہیں، اے سی صاحب! پھر بتائیں کہ پھر وہ کس کا کام ہے، ان کو چاہیئے تھا؟ پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد حسین کو اب تک گرفتار کیوں نہیں کیا؟ اب مزید آپ کس غفلت کا انتظار کررہے ہیں؟ بھاٹی گیٹ واقعے اورقتل میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے، مین ہول کو کھلا چھوڑ دیا گیا کہ کسی کو کوئی پروا نہیں تھی، جب وہاں روشنی ہی نہیں تو لوگ بینر کیسے پڑھیں گے کہ تعمیراتی کام ہورہا ہے؟
اس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنلاہور فیصل کامران نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے خاتون کے شوہر کی ایک ایک بات سچ ثابت ہوئی، یہ لوگداتا دربار سے سلام کرکے نکلے تھے کہحادثہ پیش آگیا سیف سٹی نے تمام چیزیں نکال لی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہوزیر اعلیٰ پنجابمریم نواز نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنائی،وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کردیا گیا، غفلت اور کوتاہی کے مرتکب پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو بھی معطل کردیا گیا۔ ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ گھر سے باہر سیر کرنے نکلی متاثرہ فیملی مینارپاکستان کے بعدداتا دربار پہنچی تھی، اس دوران خاتون اور بچی کھلے نالے کی منڈیر پر بیٹھیں جہاں سے دونوں نیچے گر گئیں، جس مقام کی نشاندہی کی گئی ہے وہداتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں ہے، انتظامیہ نے اس جگہ کھدائی کر رکھی تھی، واقعے کے وقت علاقے میں اندھیرا تھا، ریسکیو 1122 کی سپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور صرف چند منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے۔

